چلوچلو۔ حجاز چلیں، ناروے میں نوجوانوں کو برائیوں سے دور لے جانے کا دلچسپ انداز

This slideshow requires JavaScript.

اوسلو (خصوصی رپورٹ)۔

ناروے میں معتدل نارویجن پاکستانیوں کے ایک گروپ نے شمالی یورپ کے اس ملک مقیم مسلمان نوجوانوں کو برائیوں سے منحرف کرنے اور اچھائی کی طرف لے جانے کے لیے ایک دلچسپ اور مناسب طریقہ دریافت کیا ہے۔

اس گروپ میں متعدد لوگ شامل ہیں جس کے روح رواں علامہ ڈاکٹر محمد عدیل ہیں جو اوسلو کے قرب میں لیلے سترم ٹاون کی پیشوا مسجد کے امام بھی ہیں اور ان کے معاون عامر رؤف ہیں۔

انھوں نے اپنے اس پراجیکٹ کے تحت نوجوانوں کے لئے تربیتی ورکشاپ اور کلاسوں کے اجراء کے ساتھ ساتھ، نو پرافٹ، نو لاس کے نظریے کی بنا پر سال میں تین بار یعنی کرسمس، ایسٹر اور ثمر کی تعطیلات کے دوران عمرہ اور پھر ایک بار حج پیکج کا اعلان کیا ہے۔

اس سے قبل پچھلے سال ان کا دوسو بیس افراد پر مشتمل قافلہ کرسمس کی چھٹیوں کے دوران عمرہ کی سعادت حاصل کرچکا ہے اور اگلا قافلہ ایسٹر کی چھٹیوں کے دوران بارہ اپریل کو دس دن کے لئے حجاز مقدس  (مکہ و مدینہ) روانہ ہوگا۔

منتظمین کے بقول، ان تمام پیکجز میں نوجوانوں کے لیے خصوصی رعایت ہے تاکہ وہ اچھائی کے اس کاروان میں بغیرکسی مالی پریشانی کے شامل ہوسکیں۔

اس کاروان میں بہت سے ایسے نوجوان شامل ہوتے ہیں جو بعض وجوعات کی بنا پر برائیوں کی طرف مبتلا ہوگئے تھے اور ان کی روحانی تربیت کے بعد انہیں مکہ و مدینہ کی زیارت کرائی جاتی ہے تاکہ وہ پغمبراکرم (ص)، آپ کے اہل بیت (ع) اور اصحاب (رض) کی زندگیوں کے آثار کوقریب سے مشاہدہ کرسکیں۔

ڈاکٹر عدیل کا کہنا ہے کہ لوگوں کو مشکلات سے نکال کر آسانی کی طرف لے جانا ہماری ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ ہمیں چاہیے کہ لوگوں کی پریشانیوں کو کم کرنے میں ان کی مدد کریں اور معاشرے کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔

عامر رؤف اپنے پراجیکٹ کے بارے میں ریسرچ سکالر و صحافی سید سبطین شاہ سے گفتگو کرتے ہوئے۔

 عامر رؤف کے بقول، دین مشکل نہیں، آسان ہے لیکن کچھ لوگوں نے اسے مشکل بنا دیا ہے۔ انھوں نے بتایاکہ اس کاروان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں۔ انھوں نے ایک ملاقات میں ریسرچ سکالر سید سبطین شاہ جو گذشتہ چند سالوں سے انتہاپسندی کے موضوع پر تحقیق کررہے ہیں، کو بتایاکہ ہمارے اس پراجیکٹ کا مقصد لوگوں کو انتہاپسندی سمیت دیگر متعدد برائیوں سے بچانا ہے اور اچھائی کی طرف راغب کرنا ہے۔ 

 

Recommended For You

Leave a Comment